حافظ صمد

جو دوست لاہور سے تعلق رکھتے ہیں وہ شائد حافظ صمد کے نام سے واقف ہوں گے۰
حافظ صمد 1970s اور 80s میں شمالی لاہور اور بادامی باغ کی مشہور شخصیت تھا۰

وہ حافظ قرآن تھا اور شائد نمازی بھی تھا۰
اس کی شہرت تھی کہ وہ غریبوں کے کام بھی آتا تھا۰

لیکن وہ ایک غنڈہ تھا جو بادامی باغ لاری اڈہ کے ٹرانسپورٹرز Transporters سے جگا ٹیکس وصول کرتا تھا۰
وہ شائد لاہور کا اولین قبضہ گروپ بھی تھا۰
بد معاشی اس کا معاش تھا۰

میں نے ایک مرتبہ اس کی جھلک دیکھی تھی۰
اس کے ساتھ دو یا تین کاروں میں حافظ صمد کا گروہ تھا جو سب اسلحہ بردار تھے اور کلاشنکوف AK47 لے کر اس کے گرد موجود تھے۰

اس کی دہشت اس کے بدمعاش گروہ اور AK 47 کی وجہ سے تھی۰
شائد علاقہ کی پولیس بھی اس کے payroll پر تھی اور اس کی دہشت سے خائف تھی۰

حافظ صمد قتل کے کئی کیسز میں ملوث تھا لیکن کبھی الزامات ثابت نہیں ہوےُ تھے ۰
قتل کے گواہ جانتے تھے کہ گواہی دینے کی صورت میں وہ بھی مقتول سے جا ملیں گے۰

آج پورے پاکستان پر ایک حافظ صمد کی دہشت چھائی ہوئی ہے۰
حافظ کے پاس اسلحہ بردار جتھہ ہے۰
اور وہ قتل و غارت سے بھی پرہیز نہیں کرتا۰
یہ حافظ بھی دہشت گرد ہے۰
یہ حافظ بھی قبضہ گروپ کا سربراہ ہے اور کسی بھی گواہ کو اس دنیا سے رخصت کر دیتا ہے۰
یہ حافظ بھی قانون سے ماورا ہے اور لوگوں سے ان کا حق چھینتا ہے ۰

گو کہ نیا حافظ قدرتی آفات کی صورت میں غریبوں کی مدد بھی کرتا ہے۰

آج پورا پاکستان لاری اڈہ بن چکا ہے۰

آج پاکستان کے عوام نے فیصلہ کرنا ہے کہ حافظ صمد کی غنڈہ گردی کے ساےُ میں زندگی گزارنی ہے یا آزاد شہری کی حیثیت سے ۰


Posted

in

by

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *